شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
ہر جگہ تو ہمیں یاد آیا سو ہم ہر جگہ تھوڑے تھوڑے بکھرتے رہے
ریل کی پٹڑیاں خوں میں تر ہو گئیں شہر میں زہر نایاب ہونے لگا
عرش والے ترے ہاتھ میں موت تھی اور لوگ اپنی مرضی سے مرتے رہے
شہر کا حکمراں ایک گہنائے مہتاب کے پہلو میں آنچ پاتا رہا
شہر میں رات بھر ایک فٹ پاتھ پر کتنی ماؤں کے سورج ٹھٹھرتے رہے
صرف لاشیں نہیں لہر ہو لہر میں تو خزانے بھی ہم تک پہنچ جاتے ہیں
ساحلوں کے مکیں دکھ سناتے ہوئے بھی سمندر کی تعریف کرتے رہے
راکب مختار کی مزید شاعری
رباعی
سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
شعر
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
شعر
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں
غزل
لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے
رباعی
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
غزل
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی