Thursday, September 17, 2026
غزل

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
ہر جگہ تو ہمیں یاد آیا سو ہم ہر جگہ تھوڑے تھوڑے بکھرتے رہے
ریل کی پٹڑیاں خوں میں تر ہو گئیں شہر میں زہر نایاب ہونے لگا
عرش والے ترے ہاتھ میں موت تھی اور لوگ اپنی مرضی سے مرتے رہے
شہر کا حکمراں ایک گہنائے مہتاب کے پہلو میں آنچ پاتا رہا
شہر میں رات بھر ایک فٹ پاتھ پر کتنی ماؤں کے سورج ٹھٹھرتے رہے
صرف لاشیں نہیں لہر ہو لہر میں تو خزانے بھی ہم تک پہنچ جاتے ہیں
ساحلوں کے مکیں دکھ سناتے ہوئے بھی سمندر کی تعریف کرتے رہے
4 ویوز 14 Sep 2026 غزل