Sunday, November 01, 2026
FB
غزل

بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں

بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں
خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو
جو لطف آتا ہے بنتے ہی ٹوٹ جانے میں
کہیں یہ بھول نہ جائیں کہ کوئی قید بھی ہے
جھٹکتا رہتا ہوں زنجیر قید خانے میں
عجیب کھردرے لہجوں نے مجھ کو چاٹ لیا
میں نذرٍ شور ہوا خامشی بچانے میں
ہمارے شہر کے قاتل بڑے منافق ہیں
جلا کے رکھتے ہیں لاشوں کو سرد خانے میں
میں تجربوں میں گھرا بدنصیب آدمی ہوں
گنوا دیے ہیں کئی یار آزمانے میں
مجھ ایسا دوسرا ممکن نہیں کہ مل پائے
مجھ ایسا دوسرا ہے ہی نہیں زمانے میں
یہ آسماں بھی مساوات کی علامت ہے
اکٹھے رہتے سب ایک شامیانے میں
34 ویوز 14 Sep 2026 غزل