بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں
خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو
جو لطف آتا ہے بنتے ہی ٹوٹ جانے میں
کہیں یہ بھول نہ جائیں کہ کوئی قید بھی ہے
جھٹکتا رہتا ہوں زنجیر قید خانے میں
عجیب کھردرے لہجوں نے مجھ کو چاٹ لیا
میں نذرٍ شور ہوا خامشی بچانے میں
ہمارے شہر کے قاتل بڑے منافق ہیں
جلا کے رکھتے ہیں لاشوں کو سرد خانے میں
میں تجربوں میں گھرا بدنصیب آدمی ہوں
گنوا دیے ہیں کئی یار آزمانے میں
مجھ ایسا دوسرا ممکن نہیں کہ مل پائے
مجھ ایسا دوسرا ہے ہی نہیں زمانے میں
یہ آسماں بھی مساوات کی علامت ہے
اکٹھے رہتے سب ایک شامیانے میں
راکب مختار کی مزید شاعری
غزل
شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
رباعی
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
کس نے کہا تھا جان رسالت شہید کر
کس نے کہا تھا جان رسالت شہید کر
بیٹھا ہے دو جہان کی لعنت خرید کر
اصغر ملائکہ بھی سنیں گونج عرش پر
غزل
بیٹھا ہے دو جہان کی لعنت خرید کر
اصغر ملائکہ بھی سنیں گونج عرش پر
ولا کے باغ میں کھلتے ہوئے گل تر نے
ولا کے باغ میں کھلتے ہوئے گل تر نے
یزیدیت کی رگیں کاٹ دی ہیں اصغر نے
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
رباعی
یزیدیت کی رگیں کاٹ دی ہیں اصغر نے
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
شعر
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
روتے رہتے ہیں عزادار نہیں سو سکتے
غزل
روتے رہتے ہیں عزادار نہیں سو سکتے
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے