اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
موسم زرد میں اک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
اب کوئی کیا مرے قدموں کے نشاں ڈھونڈے گا
تیز آندھی میں تو خیمہ بھی اکھڑ جاتے ہیں
شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگ
پتھروں میں بھی کبھی آئنے جڑ جاتی ہیں
سوچ کا آئنہ دھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ
چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں
شدت غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی
کچھ دیئے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں
وہ بھی کیا لوگ ہیں محسنؔ جو وفا کی خاطر
خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں
محسن نقوی کی مزید شاعری
نظم
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
نظم
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
شعر
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
شعر
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا
شعر
وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
غزل
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں