Thursday, September 17, 2026
FB
شعر

شام غریباں دیکھ رہے تھے یہ امتی

شام غریباں دیکھ رہے تھے یہ امتی
خیموں میں کوئی اور محمد بچا نہ ہو
1 ویوز 14 Sep 2026 شعر

راکب مختار کی مزید شاعری

غزل

ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے

ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
غزل

بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں

بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں
خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو
غزل

ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا

ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
شعر

دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے

دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے
"یا حسین آپ کے انکار پہ پیار آتا ہے"
غزل

یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو

یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو
مری مٹھی میں آئیں دو جہاں آہستہ آہستہ
علی کے نام پر لہجے کی تیزی مت دکھا ورنہ
غزل

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی