شام غریباں دیکھ رہے تھے یہ امتی
خیموں میں کوئی اور محمد بچا نہ ہو
راکب مختار کی مزید شاعری
غزل
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
رباعی
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
شعر
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
شعر
نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
غزل
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
شعر
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے
دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے
"یا حسین آپ کے انکار پہ پیار آتا ہے"
"یا حسین آپ کے انکار پہ پیار آتا ہے"