دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
راکب مختار کی مزید شاعری
غزل
بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں
خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو
شعر
جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں
خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو
حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے
حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے
زم زم کشید ہو گیا کچی شراب سے
غزل
زم زم کشید ہو گیا کچی شراب سے
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
غزل
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
غزل
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
غزل
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
ولا کے باغ میں کھلتے ہوئے گل تر نے
ولا کے باغ میں کھلتے ہوئے گل تر نے
یزیدیت کی رگیں کاٹ دی ہیں اصغر نے
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
یزیدیت کی رگیں کاٹ دی ہیں اصغر نے
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی