Sunday, November 01, 2026
FB
شعر

دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے

دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
32 ویوز 14 Sep 2026 شعر

راکب مختار کی مزید شاعری

شعر

بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں

بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں
تمہارے بعد جچی ہے جو سادگی مجھ پر
رباعی

سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے

سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
شعر

شام غریباں دیکھ رہے تھے یہ امتی

شام غریباں دیکھ رہے تھے یہ امتی
خیموں میں کوئی اور محمد بچا نہ ہو
غزل

ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا

ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
غزل

حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے

حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
غزل

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر