Thursday, September 17, 2026
غزل

چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی

چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
کٹے شجر پہ پرندوں نے آہ و زاری کی
وہ جس کا عشق مرا جزو روح بن گیا تھا
اسی نے مجھ سے محبت بھی اختیاری کی
تمہارا وجد میں آنا فقط دکھاوا تھا
وہ کیفیت ہی نہیں تھی جو خود پہ طاری کی
تمہارے شہر کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئے
عدو کوئی نہ بنایا سبھی سے یاری کی
جہاں خدا کی اذاں ہو رہی ہو گیت کی نذر
سنے گا کون وہاں پر صدا بھکاری کی
4 ویوز 13 Sep 2026 غزل

راکب مختار کی مزید شاعری

غزل

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی
شعر

حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے

حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے
زم زم کشید ہو گیا کچی شراب سے
غزل

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
شعر

پھول دے کر اسے کہنا کہ بدن کٹتے ہیں

پھول دے کر اسے کہنا کہ بدن کٹتے ہیں
پھول جھڑتے نہیں چلتی ہوئی تلواروں سے
غزل

ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے

ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
غزل

بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں

بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں
خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو