Sunday, November 01, 2026
FB
غزل

چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی

چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
کٹے شجر پہ پرندوں نے آہ و زاری کی
وہ جس کا عشق مرا جزو روح بن گیا تھا
اسی نے مجھ سے محبت بھی اختیاری کی
تمہارا وجد میں آنا فقط دکھاوا تھا
وہ کیفیت ہی نہیں تھی جو خود پہ طاری کی
تمہارے شہر کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئے
عدو کوئی نہ بنایا سبھی سے یاری کی
جہاں خدا کی اذاں ہو رہی ہو گیت کی نذر
سنے گا کون وہاں پر صدا بھکاری کی
46 ویوز 13 Sep 2026 غزل