حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے
زم زم کشید ہو گیا کچی شراب سے
راکب مختار کی مزید شاعری
غزل
حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
شعر
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں
شعر
لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
غزل
نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
غزل
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے
درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے
جو اپنی آنکھوں میں اشکوں کا سلسلہ کوئی ہے
امام سجدے میں تھے اور سارے نبیوں سے
شعر
جو اپنی آنکھوں میں اشکوں کا سلسلہ کوئی ہے
امام سجدے میں تھے اور سارے نبیوں سے
بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں
بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں
تمہارے بعد جچی ہے جو سادگی مجھ پر
تمہارے بعد جچی ہے جو سادگی مجھ پر