Friday, September 18, 2026
FB
غزل

درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے

درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے
جو اپنی آنکھوں میں اشکوں کا سلسلہ کوئی ہے
امام سجدے میں تھے اور سارے نبیوں سے
خدا نے فخر سے پوچھا حسین سا کوئی ہے
تمام دوست مرے نوکران ٍ غازی ہیں
لے آزما کے بتا ان میں بے وفا کوئی ہے
حسین چوم کے کہتے تھے مصطفیٰ اکثر
خدا کا شکر مرے دیں کا آسرا کوئی ہے
بتانا یہ تھا کہ ہم موت سے نہیں مرتے
وگرنہ کٹ کے بھی نیزے پہ بولتا کوئی ہے
تو تخت و تاج کے نشے میں مجھ سے بات نہ کر
نہ اونچا بول مرا اپنا کربلا کوئی ہے
4 ویوز 14 Sep 2026 غزل