درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے
جو اپنی آنکھوں میں اشکوں کا سلسلہ کوئی ہے
امام سجدے میں تھے اور سارے نبیوں سے
خدا نے فخر سے پوچھا حسین سا کوئی ہے
تمام دوست مرے نوکران ٍ غازی ہیں
لے آزما کے بتا ان میں بے وفا کوئی ہے
حسین چوم کے کہتے تھے مصطفیٰ اکثر
خدا کا شکر مرے دیں کا آسرا کوئی ہے
بتانا یہ تھا کہ ہم موت سے نہیں مرتے
وگرنہ کٹ کے بھی نیزے پہ بولتا کوئی ہے
تو تخت و تاج کے نشے میں مجھ سے بات نہ کر
نہ اونچا بول مرا اپنا کربلا کوئی ہے
راکب مختار کی مزید شاعری
شعر
وہ بادشاہ مولا علی ع کا غلام تھا
وہ بادشاہ مولا علی ع کا غلام تھا
خیرات کی جگہ مرے کاسے میں تاج ہے
شعر
خیرات کی جگہ مرے کاسے میں تاج ہے
دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے
دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے
"یا حسین آپ کے انکار پہ پیار آتا ہے"
رباعی
"یا حسین آپ کے انکار پہ پیار آتا ہے"
کس نے کہا تھا جان رسالت شہید کر
کس نے کہا تھا جان رسالت شہید کر
بیٹھا ہے دو جہان کی لعنت خرید کر
اصغر ملائکہ بھی سنیں گونج عرش پر
شعر
بیٹھا ہے دو جہان کی لعنت خرید کر
اصغر ملائکہ بھی سنیں گونج عرش پر
حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے
حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے
زم زم کشید ہو گیا کچی شراب سے
غزل
زم زم کشید ہو گیا کچی شراب سے
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
غزل
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی