انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل
وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے
محسن نقوی کی مزید شاعری
نظم
اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت کی ساری روشنیاں
آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
شعر
اس سمت کی ساری روشنیاں
آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں
غزل
کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
شعر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
نظم
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
بہت دنوں سے
بہت دنوں سے
وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے
شعر
وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے
وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے
کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے