جو اس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے
تو دکھ سے اور بھی اس پر جمال آ جائے
مرا خیال بھی گھنگرو پہن کے ناچے گا
اگر خیال کو تیرا خیال آ جائے
ہر ایک شام نئے خواب اس پہ کاڑھیں گے
ہمارے ہاتھ اگر تیری شال آ جائے
انہی دنوں وہ مرے ساتھ چائے پیتا تھا
کہیں سے کاش مرا پچھلا سال آ جائے
میں اپنے غم کے خزانے کہاں چھپاؤں گا
اگر کہیں سے کوئی اندمال آ جائے
ہر ایک بار نئے ڈھنگ سے سجائیں تجھے
ہمارے ہاتھ جو پھولوں کی ڈال آ جائے
یہ ڈوبتا ہوا سورج ٹھہر نہ جائے وصیؔ
اگر وہ سامنے وقت زوال آ جائے
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست
ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست
پھر بھی کشتی سے نہیں ہم نے اتارا کوئی دوست
جب بھی نیکی کا کوئی کام کیا ہے ہم نے
غزل
پھر بھی کشتی سے نہیں ہم نے اتارا کوئی دوست
جب بھی نیکی کا کوئی کام کیا ہے ہم نے
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں
غزل
تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں
دل ہوش سے بیگانہ بیگانے کو کیا کہئے
دل ہوش سے بیگانہ بیگانے کو کیا کہئے
چپ رہنا ہی بہتر ہے دیوانے کو کیا کہئے
کچھ بھی تو نہیں دیکھا اور کوچ کی تیاری
غزل
چپ رہنا ہی بہتر ہے دیوانے کو کیا کہئے
کچھ بھی تو نہیں دیکھا اور کوچ کی تیاری
تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
غزل
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
غزل
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
کبھی کسی سے کسی کا کمال مت چھینو
خوشی اسی میں اگر ہے تو ہر خوشی لے لو
کبھی کسی سے کسی کا کمال مت چھینو
خوشی اسی میں اگر ہے تو ہر خوشی لے لو