Thursday, September 17, 2026
غزل

سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی

سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی
کہ اس میں ایک بھی جھاڑی نہیں بنائی گئی
یہ سرحدیں تو بہت بعد میں بنیں پہلے
دلوں کی طرح کشادہ زمیں بنائی گئی
گھٹے گھٹے سے کئی دوست بھی تو رہنے ہیں
یہ سوچ کر ہی کھلی آستیں بنائی گئی
غزل غزل میں بڑا فرق ہے مرے بھائی
کہیں اتاری گئی ہے کہیں بنائی گئی
کسی نے رنگوں میں راکبؔ گلاب گوندھے نہیں
کسی سے شکل تمہاری نہیں بنائی گئی
5 ویوز 13 Sep 2026 غزل