سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی
کہ اس میں ایک بھی جھاڑی نہیں بنائی گئی
یہ سرحدیں تو بہت بعد میں بنیں پہلے
دلوں کی طرح کشادہ زمیں بنائی گئی
گھٹے گھٹے سے کئی دوست بھی تو رہنے ہیں
یہ سوچ کر ہی کھلی آستیں بنائی گئی
غزل غزل میں بڑا فرق ہے مرے بھائی
کہیں اتاری گئی ہے کہیں بنائی گئی
کسی نے رنگوں میں راکبؔ گلاب گوندھے نہیں
کسی سے شکل تمہاری نہیں بنائی گئی
راکب مختار کی مزید شاعری
رباعی
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
شعر
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں
غزل
لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
شعر
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
شعر
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
پھول اس خوف سے لے لیتی تھی لڑکی راکب
پھول اس خوف سے لے لیتی تھی لڑکی راکب
دوسرے ہاتھ میں تیزاب ہوا کرتا تھا
غزل
دوسرے ہاتھ میں تیزاب ہوا کرتا تھا
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں