میری محفل تھا مری خلوت جاں تھا کیا تھا
وہ عجب شخص تھا اک راز نہاں تھا کیا تھا
بال کھولے ہوئے پھرتی تھیں حسینائیں کچھ
وصل تھا یا کہ جدائی کا سماں تھا کیا تھا
ہائے اس شوخ کے کھل پائے نہ اسرار کبھی
جانے وہ شخص یقیں تھا کہ گماں تھا کیا تھا
تم جسے مرکزی کردار سمجھ بیٹھے ہو
وہ فسانے میں اگر تھا تو کہاں تھا کیا تھا
کیوں وصیؔ شہ پہ پری زادیاں جاں دیتی ہیں
ماہ کنعان تھا شاعر تھا جواں تھا کیا تھا
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
کیا کہیں تجھ سے کہ کس کس کے کرم ہیں ہم ہیں
کیا کہیں تجھ سے کہ کس کس کے کرم ہیں ہم ہیں
کچھ ترے کچھ تری دنیا کے ستم ہیں ہم ہیں
تو نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں
غزل
کچھ ترے کچھ تری دنیا کے ستم ہیں ہم ہیں
تو نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں
کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر
کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر
کتنا ماتم ہوا کتنے آنسو بہے چاند کو کیا خبر
مدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں
غزل
کتنا ماتم ہوا کتنے آنسو بہے چاند کو کیا خبر
مدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں
جو اس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے
جو اس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے
تو دکھ سے اور بھی اس پر جمال آ جائے
مرا خیال بھی گھنگرو پہن کے ناچے گا
غزل
تو دکھ سے اور بھی اس پر جمال آ جائے
مرا خیال بھی گھنگرو پہن کے ناچے گا
یہ کب کہا تھا نظاروں سے خوف آتا ہے
یہ کب کہا تھا نظاروں سے خوف آتا ہے
مجھے تو چاند ستاروں سے خوف آتا ہے
میں دشمنوں کے کسی وار سے نہیں ڈرتا
غزل
مجھے تو چاند ستاروں سے خوف آتا ہے
میں دشمنوں کے کسی وار سے نہیں ڈرتا
ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے
ہر ایک لب پہ ہے میری وفا کے افسانے
غزل
کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے
ہر ایک لب پہ ہے میری وفا کے افسانے
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب
اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب