Sunday, November 01, 2026
FB
شعر

دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے

دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے
"یا حسین آپ کے انکار پہ پیار آتا ہے"
29 ویوز 14 Sep 2026 شعر

راکب مختار کی مزید شاعری

شعر

بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں

بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں
تمہارے بعد جچی ہے جو سادگی مجھ پر
غزل

ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا

ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
شعر

پھول اس خوف سے لے لیتی تھی لڑکی راکب

پھول اس خوف سے لے لیتی تھی لڑکی راکب
دوسرے ہاتھ میں تیزاب ہوا کرتا تھا
شعر

دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے

دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
غزل

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
غزل

تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا

تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے