زندگی لفظ ہے
موت بھی لفظ ہے
زندگی کی تراشی ہوئی اولیں صوت سے سرحد موت تک لفظ ہی لفظ ہیں
سانس بھی لفظ ہے
سانس لینے کی ہر اک ضرورت بھی لفظوں کی محتاج ہے
آگ پانی ہوا خاک سب لفظ ہیں
آنکھ چہرہ جبیں ہاتھ لب لفظ ہیں
صبح و شام و شفق روز و شب لفظ ہیں
وقت بھی لفظ ہے
وقت کا ساز و آہنگ بھی
رنگ بھی سنگ بھی
امن بھی جنگ بھی
لفظ ہی لفظ ہیں
پھول بھی لفظ ہے
دھول بھی لفظ ہے
لفظ قاتل بھی ہے
لفظ مقتول بھی
لفظ ہی خوں بہا
لفظ دست دعا
لفظ ارض و سما
صبح فصل بہاراں بھی اک لفظ ہے
شام ہجر نگاراں بھی اک لفظ ہے
رونق بزم یاراں بھی اک لفظ ہے
محفل دل فگاراں بھی اک لفظ ہے
میں بھی اک لفظ ہوں
تو بھی اک لفظ ہے
آ کہ لفظوں کی صورت فضاؤں میں مل کر بکھر جائیں ہم
اک نیا لفظ تخلیق کر جائیں ہم
آ کہ مر جائیں ہم
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا
اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک
غزل
ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا
اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
نظم
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
بہت دنوں سے
بہت دنوں سے
وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے
شعر
وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے
کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
نظم
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
مری اداسی کا زرد موسم
مری اداسی کا زرد موسم
اگر کسی دن
مری بجھی آنکھ کے کنارے
غزل
اگر کسی دن
مری بجھی آنکھ کے کنارے
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا