Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا

محسن نقوی
29 Views Sep 12, 2026 0 min read
جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا مری سوچ خزاں کی شاخ بنی ترا چہرہ اور گلاب ہوا برفیلی رت کی تیز ہوا کیوں جھیل میں کنکر پھینک گئی اک آنکھ کی نیند حرام ہوئی اک چاند کا عکس خراب ہوا ترے ہجر میں ذہن پگھلتا تھا ترے قرب میں آنکھیں جلتی ہیں تجھے کھونا ایک قیامت تھا ترا ملنا اور عذاب ہوا بھرے شہر میں ایک ہی چہرہ تھا جسے آج بھی گلیاں ڈھونڈتی ہیں کسی صبح اسی کی دھوپ کھلی کسی رات وہی مہتاب ہوا بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا کبھی وصل میں محسنؔ دل ٹوٹا کبھی ہجر کی رت نے لاج رکھی کسی جسم میں آنکھیں کھو بیٹھے کوئی چہرہ کھلی کتاب ہوا
Copied!