Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو

وصی شاہ
28 Views Sep 13, 2026 0 min read
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو کبھی کسی سے کسی کا کمال مت چھینو خوشی اسی میں اگر ہے تو ہر خوشی لے لو یہ دکھ یہ درد یہ حزن و ملال مت چھینو اسی خلش کے سبب پھر مجھے ابھرنا ہے خدا کے واسطے عہد زوال مت چھینو میں چھوڑ سکتا نہیں ساتھ استقامت کا مری اذان سے جوش بلال مت چھینو ابھی کتاب نہ چھینو تم ان کے ہاتھوں سے ہمارے بچوں کا حسن و جمال مت چھینو ہماری آنکھ میں یادوں کے زخم رہنے دو ہمارے ہاتھ سے پھولوں کی ڈال مت چھینو ابھی بجھاؤ نہ کینڈل نہ کیک کاٹو ابھی کچھ اور دیر مرا پچھلا سال مت چھینو
Copied!