Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

خود سے تو آئے نہ تھے اہل زمیں سنتا ہے

وصی شاہ
30 Views Sep 13, 2026 0 min read
خود سے تو آئے نہ تھے اہل زمیں سنتا ہے کیوں انہیں بھیج کے اب ان کی نہیں سنتا ہے یہ اگر سچ ہے تو پھر آج اسے ثابت کر کہ سنا ہے تو سر عرش بریں سنتا ہے وہ جو سنتا نہیں تیری تو گلا کیسا ہے تو بھی کب اس کی مرے خاک نشیں سنتا ہے بگڑے بچے کی طرح شور مچائے جائے یہ مرا دل کہ کسی کی بھی نہیں سنتا ہے حسن کے حسن تغافل سے پریشان نہ ہو غور سے بات کہاں کوئی حسیں سنتا ہے بھوک افلاس دغا جرم کی بہتات وصیؔ پھر بھی لگتا ہے تجھے کوئی کہیں سنتا ہے
Copied!