Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

میرے اس دیدۂ خوں ناب کے پیچھے پیچھے

وصی شاہ
31 Views Sep 13, 2026 0 min read
میرے اس دیدۂ خوں ناب کے پیچھے پیچھے ایک بے خوابی ہے اس خواب کے پیچھے پیچھے عمر بھر چین نہیں پاتے ہیں وہ لوگ کہ جو بھاگتے رہتے ہیں اسباب کے پیچھے پیچھے دل بھی اشکوں کے تعاقب میں بہا جاتا ہے ایک صحرا سا ہے سیلاب کے پیچھے پیچھے کچھ تو تا عمر رہے کسب ہنر میں مصروف اور کچھ تمغہ و القاب کے پیچھے پیچھے جس کی تکمیل پہ آنکھیں بھی گئیں دل بھی گیا عمر گزری تھی اسی خواب کے پیچھے پیچھے ان پہ زنداں کی فصیلوں کو بھی پیار آتا ہے جو چلے آتے ہیں احباب کے پیچھے پیچھے ہم تو اس درجہ ترے نام کے دیوانے ہیں جیسے دوڑے کوئی سرخاب کے پیچھے پیچھے
Copied!