Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

میری محفل تھا مری خلوت جاں تھا کیا تھا

وصی شاہ
31 Views Sep 13, 2026 0 min read
میری محفل تھا مری خلوت جاں تھا کیا تھا وہ عجب شخص تھا اک راز نہاں تھا کیا تھا بال کھولے ہوئے پھرتی تھیں حسینائیں کچھ وصل تھا یا کہ جدائی کا سماں تھا کیا تھا ہائے اس شوخ کے کھل پائے نہ اسرار کبھی جانے وہ شخص یقیں تھا کہ گماں تھا کیا تھا تم جسے مرکزی کردار سمجھ بیٹھے ہو وہ فسانے میں اگر تھا تو کہاں تھا کیا تھا کیوں وصیؔ شہ پہ پری زادیاں جاں دیتی ہیں ماہ کنعان تھا شاعر تھا جواں تھا کیا تھا
Copied!