فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا
دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر ترا
ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا
اب اختتام کو ہے سخی حرف التماس
کچھ ہے تو اب وہ سامنے دست دعا کے لا
پیماں وفا کے باندھ مگر سوچ سوچ کر
اس ابتدا میں یوں نہ سخن انتہا کے لا
آرائش جراحت یاراں کی بزم ہے
جو زخم دل میں ہیں سبھی تن پر سجا کے لا
تھوڑی سی اور موج میں آ اے ہوائے گل
تھوڑی سی اس کے جسم کی خوشبو چرا کے لا
گر سوچنا ہیں اہل مشیت کے حوصلے
میداں سے گھر میں ایک تو میت اٹھا کے لا
محسنؔ اب اس کا نام ہے سب کی زبان پر
کس نے کہا کہ اس کو غزل میں سجا کے لا
محسن نقوی کی مزید شاعری
شعر
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
شعر
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
غزل
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے
نظم
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
شعر
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
غزل
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
اتنی مدت بعد ملے ہو
اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو