دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے
سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت
ہم نے اس کام کو بھی کل پہ اٹھا رکھا ہے
روٹھ جاتے ہو تو کچھ اور حسیں لگتے ہو
ہم نے یہ سوچ کے ہی تم کو خفا رکھا ہے
تم جسے روتا ہوا چھوڑ گئے تھے اک دن
ہم نے اس شام کو سینے سے لگا رکھا ہے
چین لینے نہیں دیتا یہ کسی طور مجھے
تیری یادوں نے جو طوفان اٹھا رکھا ہے
جانے والے نے کہا تھا کہ وہ لوٹے گا ضرور
اک اسی آس پہ دروازہ کھلا رکھا ہے
تیرے جانے سے جو اک دھول اٹھی تھی غم کی
ہم نے اس دھول کو آنکھوں میں بسا رکھا ہے
مجھ کو کل شام سے وہ یاد بہت آنے لگا
دل نے مدت سے جو اک شخص بھلا رکھا ہے
آخری بار جو آیا تھا مرے نام وصیؔ
میں نے اس خط کو کلیجے سے لگا رکھا ہے
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں
مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں
تمہاری آنکھوں میں جس قدر تھے وہ خواب سارے جھلس گئے ہیں
مری زمیں کو کسی نئے حادثے کا ہے انتظار شاید
غزل
تمہاری آنکھوں میں جس قدر تھے وہ خواب سارے جھلس گئے ہیں
مری زمیں کو کسی نئے حادثے کا ہے انتظار شاید
غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
تو مرے دل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
مجھ کو تسلیم تری ساری ذہانت لیکن
غزل
تو مرے دل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
مجھ کو تسلیم تری ساری ذہانت لیکن
میرے اس دیدۂ خوں ناب کے پیچھے پیچھے
میرے اس دیدۂ خوں ناب کے پیچھے پیچھے
ایک بے خوابی ہے اس خواب کے پیچھے پیچھے
عمر بھر چین نہیں پاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
غزل
ایک بے خوابی ہے اس خواب کے پیچھے پیچھے
عمر بھر چین نہیں پاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
کبھی کسی سے کسی کا کمال مت چھینو
خوشی اسی میں اگر ہے تو ہر خوشی لے لو
غزل
کبھی کسی سے کسی کا کمال مت چھینو
خوشی اسی میں اگر ہے تو ہر خوشی لے لو
میری محفل تھا مری خلوت جاں تھا کیا تھا
میری محفل تھا مری خلوت جاں تھا کیا تھا
وہ عجب شخص تھا اک راز نہاں تھا کیا تھا
بال کھولے ہوئے پھرتی تھیں حسینائیں کچھ
غزل
وہ عجب شخص تھا اک راز نہاں تھا کیا تھا
بال کھولے ہوئے پھرتی تھیں حسینائیں کچھ
بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے
بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے
کچھ ایسے ہی تمہارا اور ہمارا ساتھ رہتا ہے
محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہوگا
کچھ ایسے ہی تمہارا اور ہمارا ساتھ رہتا ہے
محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہوگا