Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی

راکب مختار
39 Views Sep 13, 2026 0 min read
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ کٹے شجر پہ پرندوں نے آہ و زاری کی وہ جس کا عشق مرا جزو روح بن گیا تھا اسی نے مجھ سے محبت بھی اختیاری کی تمہارا وجد میں آنا فقط دکھاوا تھا وہ کیفیت ہی نہیں تھی جو خود پہ طاری کی تمہارے شہر کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئے عدو کوئی نہ بنایا سبھی سے یاری کی جہاں خدا کی اذاں ہو رہی ہو گیت کی نذر سنے گا کون وہاں پر صدا بھکاری کی
Copied!