شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
ہر جگہ تو ہمیں یاد آیا سو ہم ہر جگہ تھوڑے تھوڑے بکھرتے رہے
ریل کی پٹڑیاں خوں میں تر ہو گئیں شہر میں زہر نایاب ہونے لگا
عرش والے ترے ہاتھ میں موت تھی اور لوگ اپنی مرضی سے مرتے رہے
شہر کا حکمراں ایک گہنائے مہتاب کے پہلو میں آنچ پاتا رہا
شہر میں رات بھر ایک فٹ پاتھ پر کتنی ماؤں کے سورج ٹھٹھرتے رہے
صرف لاشیں نہیں لہر ہو لہر میں تو خزانے بھی ہم تک پہنچ جاتے ہیں
ساحلوں کے مکیں دکھ سناتے ہوئے بھی سمندر کی تعریف کرتے رہے
Copied!