Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے

راکب مختار
29 Views Sep 14, 2026 0 min read
شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر ہر جگہ تو ہمیں یاد آیا سو ہم ہر جگہ تھوڑے تھوڑے بکھرتے رہے ریل کی پٹڑیاں خوں میں تر ہو گئیں شہر میں زہر نایاب ہونے لگا عرش والے ترے ہاتھ میں موت تھی اور لوگ اپنی مرضی سے مرتے رہے شہر کا حکمراں ایک گہنائے مہتاب کے پہلو میں آنچ پاتا رہا شہر میں رات بھر ایک فٹ پاتھ پر کتنی ماؤں کے سورج ٹھٹھرتے رہے صرف لاشیں نہیں لہر ہو لہر میں تو خزانے بھی ہم تک پہنچ جاتے ہیں ساحلوں کے مکیں دکھ سناتے ہوئے بھی سمندر کی تعریف کرتے رہے
Copied!