ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
روتے رہتے ہیں عزادار نہیں سو سکتے
روتی آنکھوں سے میں ہنستے ہوئے کرتا مولا
تجھ پہ قربان اگر دونوں جہاں ہو سکتے
اتنی ہمت ہی نہیں ہے کہ میں دربار لکھوں
کاش زینب کے مصائب بھی بیاں ہو سکتے
ہم نے ہر دور کے ظالم کا کیا ہے انکار
ہم سے کافر تو مسلمان نہیں ہو سکتے
Copied!