شعر پھول دے کر اسے کہنا کہ بدن کٹتے ہیں راکب مختار 27 Views Sep 14, 2026 0 min read پھول دے کر اسے کہنا کہ بدن کٹتے ہیں پھول جھڑتے نہیں چلتی ہوئی تلواروں سے Copy Print Share Size راکب مختار کی مزید شاعری دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے 31 شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے 29 ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا 32 وہ بادشاہ مولا علی ع کا غلام تھا 29 ملتے جلتے اشعار اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو Unknown حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے Unknown سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے Unknown میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے Unknown