ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
وہ سامنے تھا مگر چار سو دکھائی دیا
جو بچہ بھوک سے رو رو کے مرنے والا تھا
وہ کھلکھلا کے ہنسا تو خدا سنائی دیا
او بے وفا تری نسلیں خراب ہو جائیں
مجھ ایسے شخص کو الزام بے وفائی دیا
وہ خامشی تھی کہ لو کو زبان مل گئی تھی
مجھے سکوت میں جلتا "دیا" سنائی دیا
تو تختٍ شام کا حامی میں کربلا کا فقیر
تری تلاش اندھیرے مری کمائ "دیا"
Copied!