Monday, October 26, 2026
FB
غزل

دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط

وصی شاہ
27 Views Sep 13, 2026 0 min read
دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط اور مل گئی خوشی تو اچھالے تمہارے خط سب چوڑیاں تمہاری سمندر کو سونپ دیں اور کر دیے ہوا کے حوالے تمہارے خط میرے لہو میں گونج رہا ہے ہر ایک لفظ میں نے رگوں کے دشت میں پالے تمہارے خط یوں تو ہیں بے شمار وفا کی نشانیاں لیکن ہر ایک شے سے نرالے تمہارے خط جیسے ہو عمر بھر کا اثاثہ غریب کا کچھ اس طرح سے میں نے سنبھالے تمہارے خط اہل ہنر کو مجھ پہ وصیؔ اعتراض ہے میں نے جو اپنے شعر میں ڈھالے تمہارے خط پروا مجھے نہیں ہے کسی چاند کی وصیؔ ظلمت کے دشت میں ہیں اجالے تمہارے خط
Copied!