Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

جو اس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے

وصی شاہ
27 Views Sep 13, 2026 0 min read
جو اس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے تو دکھ سے اور بھی اس پر جمال آ جائے مرا خیال بھی گھنگرو پہن کے ناچے گا اگر خیال کو تیرا خیال آ جائے ہر ایک شام نئے خواب اس پہ کاڑھیں گے ہمارے ہاتھ اگر تیری شال آ جائے انہی دنوں وہ مرے ساتھ چائے پیتا تھا کہیں سے کاش مرا پچھلا سال آ جائے میں اپنے غم کے خزانے کہاں چھپاؤں گا اگر کہیں سے کوئی اندمال آ جائے ہر ایک بار نئے ڈھنگ سے سجائیں تجھے ہمارے ہاتھ جو پھولوں کی ڈال آ جائے یہ ڈوبتا ہوا سورج ٹھہر نہ جائے وصیؔ اگر وہ سامنے وقت زوال آ جائے
Copied!