یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو
مری مٹھی میں آئیں دو جہاں آہستہ آہستہ
علی کے نام پر لہجے کی تیزی مت دکھا ورنہ
لہو بن جائے گی منہ میں زباں آہستہ آہستہ
علم کے ساتھ اونچا تھا علم جب سے اتارا ہے
دھنسا جاتا ہے دھرتی میں مکاں آہستہ آہستہ
علی سے ملنے آتی ہے زمیں اٹھکیلیاں کرتی
نجف کو چومتا ہے آسماں آہستہ آہستہ
Copied!