شعر اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو راکب مختار 22 Views Sep 14, 2026 0 min read اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں Copy Print Share Size راکب مختار کی مزید شاعری دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے 31 شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے 31 پھول دے کر اسے کہنا کہ بدن کٹتے ہیں 28 ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا 33 ملتے جلتے اشعار حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے Unknown حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے Unknown نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی Unknown بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں Unknown