Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

ہم نے جو دیپ جلائے ہیں تری گلیوں میں

وصی شاہ
28 Views Sep 13, 2026 0 min read
ہم نے جو دیپ جلائے ہیں تری گلیوں میں اپنے کچھ خواب سجائے ہیں تری گلیوں میں جانے یہ عشق ہے یا کوئی کرامت اپنی چاند لے کر چلے آئے ہیں تری گلیوں میں تذکرہ ہو تری گلیوں کا تو ڈر جاتا ہے دل نے وہ زخم اٹھائے ہیں تری گلیوں میں اس لئے بھی تری گلیوں سے ہمیں نفرت ہے ہم نے ارمان گنوائے ہیں تری گلیوں میں کیوں ہر اک چیز ادھوری سی ہمیں لگتی ہے جانے کیا چھوڑ کے آئیں ہیں تری گلیوں میں
Copied!