Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے

وصی شاہ
33 Views Sep 13, 2026 0 min read
آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے تو نے کیسے موڑ پہ چھوڑ دیا مجھ کو دل کی بات چھپاؤں تو رسوائی ہے تیرے بعد بچا ہے کیا جیون میں مرے میں ہوں بھیگی شام ہے اور تنہائی ہے آج مری آنکھوں میں ساون اترے گا آج بہت دن بعد تری یاد آئی ہے آج کی رات بہت بھاری ہے دونوں پر آج مجھے وہ خط لوٹانے آئی ہے جانے میں کیا سوچ کے چپ ہوں گم صم ہوں جانے کیا وہ سوچ کے واپس آئی ہے یہ مہمان نوازی ہے یا اور ہے کچھ میرے لیے وہ چائے بنا کے لائی ہے آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے
Copied!