Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے

وصی شاہ
40 Views Sep 13, 2026 0 min read
دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت ہم نے اس کام کو بھی کل پہ اٹھا رکھا ہے روٹھ جاتے ہو تو کچھ اور حسیں لگتے ہو ہم نے یہ سوچ کے ہی تم کو خفا رکھا ہے تم جسے روتا ہوا چھوڑ گئے تھے اک دن ہم نے اس شام کو سینے سے لگا رکھا ہے چین لینے نہیں دیتا یہ کسی طور مجھے تیری یادوں نے جو طوفان اٹھا رکھا ہے جانے والے نے کہا تھا کہ وہ لوٹے گا ضرور اک اسی آس پہ دروازہ کھلا رکھا ہے تیرے جانے سے جو اک دھول اٹھی تھی غم کی ہم نے اس دھول کو آنکھوں میں بسا رکھا ہے مجھ کو کل شام سے وہ یاد بہت آنے لگا دل نے مدت سے جو اک شخص بھلا رکھا ہے آخری بار جو آیا تھا مرے نام وصیؔ میں نے اس خط کو کلیجے سے لگا رکھا ہے
Copied!