Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں

راکب مختار
30 Views Sep 14, 2026 0 min read
بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو جو لطف آتا ہے بنتے ہی ٹوٹ جانے میں کہیں یہ بھول نہ جائیں کہ کوئی قید بھی ہے جھٹکتا رہتا ہوں زنجیر قید خانے میں عجیب کھردرے لہجوں نے مجھ کو چاٹ لیا میں نذرٍ شور ہوا خامشی بچانے میں ہمارے شہر کے قاتل بڑے منافق ہیں جلا کے رکھتے ہیں لاشوں کو سرد خانے میں میں تجربوں میں گھرا بدنصیب آدمی ہوں گنوا دیے ہیں کئی یار آزمانے میں مجھ ایسا دوسرا ممکن نہیں کہ مل پائے مجھ ایسا دوسرا ہے ہی نہیں زمانے میں یہ آسماں بھی مساوات کی علامت ہے اکٹھے رہتے سب ایک شامیانے میں
Copied!