محسن نقوی
Mohsin Naqvi
پیدائش: 05 May 1947
وفات: 15 Jan 1996
محسن نقوی اردو کے معروف پاکستانی شاعر تھے جو اپنی رومانوی، جذباتی اور درد بھری شاعری کے باعث خاص شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید غلام عباس نقوی تھا اور وہ 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری میں محبت، جدائی، تنہائی، انسانی جذبات، وفا اور معاشرتی احساسات نمایاں موضوعات ہیں۔ ان کا اندازِ بیان سادہ، پُراثر اور جذبات سے بھرپور تھا، جس نے انہیں نوجوان نسل میں بھی بے حد مقبول بنایا۔ محسن نقوی نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں نمایاں کام کیا اور ان کا کلام اردو ادب میں ایک منفرد جذباتی رنگ رکھتا ہے۔ ان کے معروف شعری مجموعوں میں برگِ صحرا، بندِ قبا، عذابِ دید، خیمۂ جاں اور ریزۂ حرف شامل ہیں۔ وہ مرثیہ نگاری کے حوالے سے بھی نمایاں مقام رکھتے تھے اور واقعۂ کربلا سے متعلق ان کا کلام خاص طور پر معروف ہے۔ محسن نقوی 15 جنوری 1996 کو لاہور میں ایک حملے کے نتیجے میں وفات پا گئے۔ ان کی شاعری آج بھی اردو ادب اور مشاعروں میں خاص مقبولیت رکھتی ہے۔
112
کل شاعری
40
شعر
49
غزل
23
نظم
شعر
انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل
انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل
وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے
وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے
شعر
کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
شعر
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
شعر
جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک
جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک
وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا
وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا
شعر
شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر
جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر
شعر
چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی
محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی
شعر
جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا
ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا
شعر
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
شعر
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
شعر
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
شعر
بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
شعر
پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے
پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے
شعر
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
شعر
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
شعر
وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی
ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی
شعر
یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی
یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی
نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی
نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی
شعر
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
شعر
ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ
سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ
شعر
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
شعر
موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
شعر
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
شعر
جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا
وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا
شعر
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
شعر
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
شعر
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
شعر
ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا
چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا
شعر
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
شعر
کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں
کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں
شعر
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
شعر
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
شعر
وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے
گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے
شعر
کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں
شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں
شعر
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
شعر
وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے
کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے
شعر
تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے
یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے
شعر
کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو
شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو
شعر
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
شعر
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
شعر
کون سی بات ہے تم میں ایسی
کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
شعر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر