محسن نقوی
Mohsin Naqvi
پیدائش: 05 May 1947
وفات: 15 Jan 1996
محسن نقوی اردو کے معروف پاکستانی شاعر تھے جو اپنی رومانوی، جذباتی اور درد بھری شاعری کے باعث خاص شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید غلام عباس نقوی تھا اور وہ 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری میں محبت، جدائی، تنہائی، انسانی جذبات، وفا اور معاشرتی احساسات نمایاں موضوعات ہیں۔ ان کا اندازِ بیان سادہ، پُراثر اور جذبات سے بھرپور تھا، جس نے انہیں نوجوان نسل میں بھی بے حد مقبول بنایا۔ محسن نقوی نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں نمایاں کام کیا اور ان کا کلام اردو ادب میں ایک منفرد جذباتی رنگ رکھتا ہے۔ ان کے معروف شعری مجموعوں میں برگِ صحرا، بندِ قبا، عذابِ دید، خیمۂ جاں اور ریزۂ حرف شامل ہیں۔ وہ مرثیہ نگاری کے حوالے سے بھی نمایاں مقام رکھتے تھے اور واقعۂ کربلا سے متعلق ان کا کلام خاص طور پر معروف ہے۔ محسن نقوی 15 جنوری 1996 کو لاہور میں ایک حملے کے نتیجے میں وفات پا گئے۔ ان کی شاعری آج بھی اردو ادب اور مشاعروں میں خاص مقبولیت رکھتی ہے۔
112
کل شاعری
40
شعر
49
غزل
23
نظم
غزل
فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
پتھروں سے بشر تراشا کر
کب سے اپنی تلاش میں گم ہوں
اے خدا مجھ کو مجھ پہ افشا کر
مکمل پڑھیں
پتھروں سے بشر تراشا کر
کب سے اپنی تلاش میں گم ہوں
اے خدا مجھ کو مجھ پہ افشا کر
غزل
جذبے کو زبان دے رہا ہوں
جذبے کو زبان دے رہا ہوں
پتھر کو بھی جان دے رہا ہوں
اک یاد کو دفن کر کے دل میں
دشمن کو امان دے رہا ہوں
مکمل پڑھیں
پتھر کو بھی جان دے رہا ہوں
اک یاد کو دفن کر کے دل میں
دشمن کو امان دے رہا ہوں
غزل
کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
اک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر
تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
مجھ کو زنجیریں ملی ہیں جرأت اظہار پر
مکمل پڑھیں
اک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر
تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
مجھ کو زنجیریں ملی ہیں جرأت اظہار پر
غزل
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
مری زباں کو زر التماس کیا دے گا
مکمل پڑھیں
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
مری زباں کو زر التماس کیا دے گا
غزل
خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا
تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو
کہ ماہتاب سدا شب کے پیرہن میں کھلا
مکمل پڑھیں
مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا
تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو
کہ ماہتاب سدا شب کے پیرہن میں کھلا
غزل
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو
کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمنا
خوشبو کی طرح پھیل چمن تا بہ چمن تو
مکمل پڑھیں
ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو
کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمنا
خوشبو کی طرح پھیل چمن تا بہ چمن تو
غزل
لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی
لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی
میں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھی
اسے لبھا نہ سکا میرے بعد کا موسم
بہت اداس لگا خال و خد سنوار کے بھی
مکمل پڑھیں
میں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھی
اسے لبھا نہ سکا میرے بعد کا موسم
بہت اداس لگا خال و خد سنوار کے بھی
غزل
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
کہ سانپ زہر چھڑکتا رہا چنبیلی پر
مکمل پڑھیں
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
کہ سانپ زہر چھڑکتا رہا چنبیلی پر
غزل
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
بدن سے روح کا اس درجہ اشتراک ہوا
مکمل پڑھیں
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
بدن سے روح کا اس درجہ اشتراک ہوا
غزل
پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
مکمل پڑھیں
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
غزل
زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے
زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے
بعض اوقات مری روح غضب کرتی ہے
جو تری زلف سے اترے ہوں مرے آنگن میں
چاندنی ایسے اندھیروں کا ادب کرتی ہے
مکمل پڑھیں
بعض اوقات مری روح غضب کرتی ہے
جو تری زلف سے اترے ہوں مرے آنگن میں
چاندنی ایسے اندھیروں کا ادب کرتی ہے
غزل
سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں
سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں
اس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میں
وصل کے شہر کی روشنی ایک تو
ہجر کے دشت میں کارواں ایک میں
مکمل پڑھیں
اس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میں
وصل کے شہر کی روشنی ایک تو
ہجر کے دشت میں کارواں ایک میں
غزل
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
مکمل پڑھیں
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
غزل
جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا
جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا
وہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا
اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کی
بچوں کو اپنی بھیک کے پیالے تو دے گیا
مکمل پڑھیں
وہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا
اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کی
بچوں کو اپنی بھیک کے پیالے تو دے گیا
غزل
یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
مکمل پڑھیں
ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
غزل
کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا
کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا
بھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلا
بچھڑ کر تجھ سے میں شب بھر نہ سویا کون رویا
بجز میرے یہ دکھ بھی کس نے جھیلا میں اکیلا
مکمل پڑھیں
بھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلا
بچھڑ کر تجھ سے میں شب بھر نہ سویا کون رویا
بجز میرے یہ دکھ بھی کس نے جھیلا میں اکیلا
غزل
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا
مکمل پڑھیں
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا
غزل
جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا
جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا
مری سوچ خزاں کی شاخ بنی ترا چہرہ اور گلاب ہوا
برفیلی رت کی تیز ہوا کیوں جھیل میں کنکر پھینک گئی
اک آنکھ کی نیند حرام ہوئی اک چاند کا عکس خراب ہوا
مکمل پڑھیں
مری سوچ خزاں کی شاخ بنی ترا چہرہ اور گلاب ہوا
برفیلی رت کی تیز ہوا کیوں جھیل میں کنکر پھینک گئی
اک آنکھ کی نیند حرام ہوئی اک چاند کا عکس خراب ہوا
غزل
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی
ترے لیے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہوگا
مرے لیے تجھے زلفیں سنوارنا ہوں گی
مکمل پڑھیں
ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی
ترے لیے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہوگا
مرے لیے تجھے زلفیں سنوارنا ہوں گی
غزل
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
کچھ پھول اک فقیر کی جھولی میں ڈال کر
مکمل پڑھیں
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
کچھ پھول اک فقیر کی جھولی میں ڈال کر
غزل
فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا
دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر ترا
ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا
مکمل پڑھیں
بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا
دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر ترا
ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا
غزل
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
مجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھی
اسے جکڑا ہوا تھا زندگی نے
سرہانے موت بیٹھی رو رہی تھی
مکمل پڑھیں
مجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھی
اسے جکڑا ہوا تھا زندگی نے
سرہانے موت بیٹھی رو رہی تھی
غزل
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ
اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ
مکمل پڑھیں
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ
اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ
غزل
وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے
سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری
میرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے
مکمل پڑھیں
وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے
سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری
میرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے
غزل
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
کل مل گیا تو وہ بھی دریدہ لباس تھا
مکمل پڑھیں
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
کل مل گیا تو وہ بھی دریدہ لباس تھا
غزل
بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
ہوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرنا
کھلی زمینوں میں جب بھی سرسوں کے پھول مہکیں
تم ایسی رت میں سدا مرا انتظار کرنا
مکمل پڑھیں
ہوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرنا
کھلی زمینوں میں جب بھی سرسوں کے پھول مہکیں
تم ایسی رت میں سدا مرا انتظار کرنا
غزل
ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے
ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے
تو دیر تک مرے گھر کا سکوت بولتا ہے
ہم ایسے خاک نشیں کیا لبھا سکیں گے اسے
وہ اپنا عکس بھی میزان زر میں تولتا ہے
مکمل پڑھیں
تو دیر تک مرے گھر کا سکوت بولتا ہے
ہم ایسے خاک نشیں کیا لبھا سکیں گے اسے
وہ اپنا عکس بھی میزان زر میں تولتا ہے
غزل
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا
برگ گل کو خاک شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا
مکمل پڑھیں
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا
برگ گل کو خاک شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا
غزل
نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں
جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغ
میں شہر میں بھی وہی آبلے تلاش کروں
مکمل پڑھیں
تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں
جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغ
میں شہر میں بھی وہی آبلے تلاش کروں
غزل
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام
یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری
کہ شاخ شاخ اترتی ہے تیرے ہجر کی شام
مکمل پڑھیں
نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام
یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری
کہ شاخ شاخ اترتی ہے تیرے ہجر کی شام
غزل
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
ہم نے سورج بھی ترے شہر میں آ کر دیکھا
مکمل پڑھیں
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
ہم نے سورج بھی ترے شہر میں آ کر دیکھا
غزل
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
ملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے
مکمل پڑھیں
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
ملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے
غزل
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
مکمل پڑھیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
غزل
ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں
طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں
یہ دشت شب میں ستاروں کی ہم سفر آنکھیں
مکمل پڑھیں
تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں
طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں
یہ دشت شب میں ستاروں کی ہم سفر آنکھیں
غزل
ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا
نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس
زرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا
مکمل پڑھیں
وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا
نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس
زرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا
غزل
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے
میں سارا دن کہاں پھرتا رہا ہوں
مکمل پڑھیں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے
میں سارا دن کہاں پھرتا رہا ہوں
غزل
نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر
نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
ابھی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا
جو تری تلاش میں گم ہوئے کبھی ان دنوں کا حساب کر
مکمل پڑھیں
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
ابھی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا
جو تری تلاش میں گم ہوئے کبھی ان دنوں کا حساب کر
غزل
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے
خامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا
مکمل پڑھیں
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے
خامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا
غزل
آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات
خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو
مکمل پڑھیں
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات
خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو
غزل
ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے
ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے
مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے
تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیا
ہوا کی راہ میں اک ایسا گھر بھی آتا ہے
مکمل پڑھیں
مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے
تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیا
ہوا کی راہ میں اک ایسا گھر بھی آتا ہے
غزل
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں
وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے
میں قطرہ قطرہ اسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں
مکمل پڑھیں
مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں
وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے
میں قطرہ قطرہ اسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں
غزل
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا
سوچ رہا ہوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ہوا
مکمل پڑھیں
اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا
سوچ رہا ہوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ہوا
غزل
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا
اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک
زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا
مکمل پڑھیں
ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا
اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک
زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا
غزل
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا
مکمل پڑھیں
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا
غزل
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں
مکمل پڑھیں
صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں
غزل
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی
مکمل پڑھیں
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی
غزل
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی
مکمل پڑھیں
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی
غزل
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
مکمل پڑھیں
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
غزل
اتنی مدت بعد ملے ہو
اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
مکمل پڑھیں
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو