Monday, October 26, 2026
FB
محسن نقوی

محسن نقوی

Mohsin Naqvi
پیدائش: 05 May 1947 وفات: 15 Jan 1996
محسن نقوی اردو کے معروف پاکستانی شاعر تھے جو اپنی رومانوی، جذباتی اور درد بھری شاعری کے باعث خاص شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید غلام عباس نقوی تھا اور وہ 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری میں محبت، جدائی، تنہائی، انسانی جذبات، وفا اور معاشرتی احساسات نمایاں موضوعات ہیں۔ ان کا اندازِ بیان سادہ، پُراثر اور جذبات سے بھرپور تھا، جس نے انہیں نوجوان نسل میں بھی بے حد مقبول بنایا۔ محسن نقوی نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں نمایاں کام کیا اور ان کا کلام اردو ادب میں ایک منفرد جذباتی رنگ رکھتا ہے۔ ان کے معروف شعری مجموعوں میں برگِ صحرا، بندِ قبا، عذابِ دید، خیمۂ جاں اور ریزۂ حرف شامل ہیں۔ وہ مرثیہ نگاری کے حوالے سے بھی نمایاں مقام رکھتے تھے اور واقعۂ کربلا سے متعلق ان کا کلام خاص طور پر معروف ہے۔ محسن نقوی 15 جنوری 1996 کو لاہور میں ایک حملے کے نتیجے میں وفات پا گئے۔ ان کی شاعری آج بھی اردو ادب اور مشاعروں میں خاص مقبولیت رکھتی ہے۔
112 کل شاعری
40 شعر
49 غزل
23 نظم
نظم

بہت دنوں سے

بہت دنوں سے
وہ شاخ‌ مہتاب کٹ چکی ہے
کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے
بہت دنوں سے
مکمل پڑھیں
30 12 Sep 2026
نظم

فراق صبحوں کی بجھتی کرنیں

فراق صبحوں کی بجھتی کرنیں
وصال شاموں کی جلتی شمعیں
زوال زرداب خال و خد سے اٹے زمانے
یہ ہانپتی دھوپ کانپتی چاندنی سے چہرے
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
نظم

مری اداسی کا زرد موسم

مری اداسی کا زرد موسم
اگر کسی دن
مری بجھی آنکھ کے کنارے
بھگو بھگو کر
مکمل پڑھیں
31 12 Sep 2026
نظم

مری گلی کے غلیظ بچو

مری گلی کے غلیظ بچو
تم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھو
تمہاری آنکھیں
اداسیوں سے بھری ہوئی ہیں
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026
نظم

اس سمت نہ جانا جان مری

اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت کی ساری روشنیاں
آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
اس سمت کی اجلی مٹی میں
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026
نظم

مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے

مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
جو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
نظم

میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے

میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
سایۂ‌ شام غریباں کی طرح
شورش دیدۂ گریاں کی طرح
موسم‌ کنج بیاباں کی طرح
مکمل پڑھیں
26 12 Sep 2026
نظم

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں
موسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواں
جس کے ہم راہ کسی زہرہ جبیں کی ڈولی
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
نظم

ہوا

ہوا
صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سے
خواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہنا
کہ ہم جاگتے ہیں
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
نظم

میں نے اکثر خواب میں دیکھا

میں نے اکثر خواب میں دیکھا
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
قبر کی اجلی پیشانی پر
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
نظم

دل دکھتا ہے

دل دکھتا ہے
آباد گھروں سے دور کہیں
جب بنجر بن میں آگ جلے
دل دکھتا ہے
مکمل پڑھیں
29 12 Sep 2026
نظم

زندگی لفظ ہے

زندگی لفظ ہے
موت بھی لفظ ہے
زندگی کی تراشی ہوئی اولیں صوت سے سرحد موت تک لفظ ہی لفظ ہیں
سانس بھی لفظ ہے
مکمل پڑھیں
32 12 Sep 2026
نظم

مرے لیے کون سوچتا ہے

مرے لیے کون سوچتا ہے
جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے
جدا جدا سب کی صورتیں ہیں
سبھی کو اپنی انا کے اندھے کنویں کی تہ میں پڑے ہوئے
مکمل پڑھیں
32 12 Sep 2026
نظم

تمہیں کیا

تمہیں کیا
زندگی جیسی بھی ہے
تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں
تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میں
مکمل پڑھیں
36 12 Sep 2026
نظم

یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور

یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور
یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار
یہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیق
یہ آئینے سی جبیں سجدہ گاہ لیل و نہار
مکمل پڑھیں
34 12 Sep 2026
نظم

کئی سال گزرے

کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
دل و جان میں سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
نظم

تمہیں کس نے کہا تھا

تمہیں کس نے کہا تھا
دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
اور اتنی دیر تک دیکھو
کہ بینائی پگھل جائے
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
نظم

بہت دنوں بعد

بہت دنوں بعد
تیرے خط کے اداس لفظوں نے
تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو
مری رگوں میں انڈیل دی ہے
مکمل پڑھیں
32 12 Sep 2026
نظم

وہ تو یوں تھا کہ ہم

وہ تو یوں تھا کہ ہم
اپنی اپنی ضرورت کی خاطر
اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا
اپنے اپنے ارادوں کی تکمیل میں
مکمل پڑھیں
26 12 Sep 2026
نظم

چلو چھوڑو

چلو چھوڑو
محبت جھوٹ ہے
عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
نظم

پاگل آنکھوں والی لڑکی

پاگل آنکھوں والی لڑکی
اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو
تھک جاؤ گی
کانچ سے نازک خواب تمہارے
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
نظم

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دلوں میں داغ چمکتے تھے
جب پلکیں شہر کے رستوں میں
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
نظم

کسی کے دور جانے سے

کسی کے دور جانے سے
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے مان جانے سے
کسی کے روٹھ جانے سے
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026