Monday, October 26, 2026
FB
محسن نقوی

محسن نقوی

Mohsin Naqvi
پیدائش: 05 May 1947 وفات: 15 Jan 1996
محسن نقوی اردو کے معروف پاکستانی شاعر تھے جو اپنی رومانوی، جذباتی اور درد بھری شاعری کے باعث خاص شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید غلام عباس نقوی تھا اور وہ 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری میں محبت، جدائی، تنہائی، انسانی جذبات، وفا اور معاشرتی احساسات نمایاں موضوعات ہیں۔ ان کا اندازِ بیان سادہ، پُراثر اور جذبات سے بھرپور تھا، جس نے انہیں نوجوان نسل میں بھی بے حد مقبول بنایا۔ محسن نقوی نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں نمایاں کام کیا اور ان کا کلام اردو ادب میں ایک منفرد جذباتی رنگ رکھتا ہے۔ ان کے معروف شعری مجموعوں میں برگِ صحرا، بندِ قبا، عذابِ دید، خیمۂ جاں اور ریزۂ حرف شامل ہیں۔ وہ مرثیہ نگاری کے حوالے سے بھی نمایاں مقام رکھتے تھے اور واقعۂ کربلا سے متعلق ان کا کلام خاص طور پر معروف ہے۔ محسن نقوی 15 جنوری 1996 کو لاہور میں ایک حملے کے نتیجے میں وفات پا گئے۔ ان کی شاعری آج بھی اردو ادب اور مشاعروں میں خاص مقبولیت رکھتی ہے۔
112 کل شاعری
40 شعر
49 غزل
23 نظم
شعر

انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل

انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل
وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے
30 12 Sep 2026
شعر

کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ

کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
30 12 Sep 2026
شعر

یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی

یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
28 12 Sep 2026
شعر

جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک

جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک
وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا
30 12 Sep 2026
شعر

شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے

شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر
30 12 Sep 2026
شعر

چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں

چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی
29 12 Sep 2026
شعر

جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے

جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا
30 12 Sep 2026
شعر

تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا

تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
26 12 Sep 2026
شعر

دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو

دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
24 12 Sep 2026
شعر

زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں

زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
25 12 Sep 2026
شعر

بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا

بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
25 12 Sep 2026
شعر

پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری

پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے
25 12 Sep 2026
شعر

اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم

اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
28 12 Sep 2026
شعر

وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا

وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
36 12 Sep 2026
شعر

وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی

وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی
22 12 Sep 2026
شعر

یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی

یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی
نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی
29 12 Sep 2026
شعر

ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں

ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
29 12 Sep 2026
شعر

ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا

ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ
23 12 Sep 2026
شعر

کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے

کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
29 12 Sep 2026
شعر

موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے

موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
26 12 Sep 2026
شعر

لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں

لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
29 12 Sep 2026
شعر

جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر

جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا
22 12 Sep 2026
شعر

سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے

سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
25 12 Sep 2026
شعر

کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل

کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
24 12 Sep 2026
شعر

گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ

گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
25 12 Sep 2026
شعر

ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ

ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا
25 12 Sep 2026
شعر

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
27 12 Sep 2026
شعر

کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی

کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں
27 12 Sep 2026
شعر

اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا

اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
28 12 Sep 2026
شعر

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
25 12 Sep 2026
شعر

وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے

وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے
29 12 Sep 2026
شعر

کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو

کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں
21 12 Sep 2026
شعر

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
27 12 Sep 2026
شعر

وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا

وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے
27 12 Sep 2026
شعر

تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے

تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے
32 12 Sep 2026
شعر

کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے

کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو
22 12 Sep 2026
شعر

یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ

یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
27 12 Sep 2026
شعر

صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو

صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
25 12 Sep 2026
شعر

کون سی بات ہے تم میں ایسی

کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
24 12 Sep 2026
شعر

ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے

ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
25 12 Sep 2026
نظم

بہت دنوں سے

بہت دنوں سے
وہ شاخ‌ مہتاب کٹ چکی ہے
کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے
بہت دنوں سے
مکمل پڑھیں
29 12 Sep 2026
نظم

فراق صبحوں کی بجھتی کرنیں

فراق صبحوں کی بجھتی کرنیں
وصال شاموں کی جلتی شمعیں
زوال زرداب خال و خد سے اٹے زمانے
یہ ہانپتی دھوپ کانپتی چاندنی سے چہرے
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
نظم

مری اداسی کا زرد موسم

مری اداسی کا زرد موسم
اگر کسی دن
مری بجھی آنکھ کے کنارے
بھگو بھگو کر
مکمل پڑھیں
31 12 Sep 2026
نظم

مری گلی کے غلیظ بچو

مری گلی کے غلیظ بچو
تم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھو
تمہاری آنکھیں
اداسیوں سے بھری ہوئی ہیں
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026
نظم

اس سمت نہ جانا جان مری

اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت کی ساری روشنیاں
آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
اس سمت کی اجلی مٹی میں
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026
نظم

مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے

مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
جو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
نظم

میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے

میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
سایۂ‌ شام غریباں کی طرح
شورش دیدۂ گریاں کی طرح
موسم‌ کنج بیاباں کی طرح
مکمل پڑھیں
26 12 Sep 2026
نظم

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں
موسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواں
جس کے ہم راہ کسی زہرہ جبیں کی ڈولی
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
نظم

ہوا

ہوا
صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سے
خواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہنا
کہ ہم جاگتے ہیں
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
نظم

میں نے اکثر خواب میں دیکھا

میں نے اکثر خواب میں دیکھا
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
قبر کی اجلی پیشانی پر
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
نظم

دل دکھتا ہے

دل دکھتا ہے
آباد گھروں سے دور کہیں
جب بنجر بن میں آگ جلے
دل دکھتا ہے
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
نظم

زندگی لفظ ہے

زندگی لفظ ہے
موت بھی لفظ ہے
زندگی کی تراشی ہوئی اولیں صوت سے سرحد موت تک لفظ ہی لفظ ہیں
سانس بھی لفظ ہے
مکمل پڑھیں
31 12 Sep 2026
نظم

مرے لیے کون سوچتا ہے

مرے لیے کون سوچتا ہے
جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے
جدا جدا سب کی صورتیں ہیں
سبھی کو اپنی انا کے اندھے کنویں کی تہ میں پڑے ہوئے
مکمل پڑھیں
31 12 Sep 2026
نظم

تمہیں کیا

تمہیں کیا
زندگی جیسی بھی ہے
تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں
تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میں
مکمل پڑھیں
35 12 Sep 2026
نظم

یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور

یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور
یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار
یہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیق
یہ آئینے سی جبیں سجدہ گاہ لیل و نہار
مکمل پڑھیں
34 12 Sep 2026
نظم

کئی سال گزرے

کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
دل و جان میں سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے
مکمل پڑھیں
26 12 Sep 2026
نظم

تمہیں کس نے کہا تھا

تمہیں کس نے کہا تھا
دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
اور اتنی دیر تک دیکھو
کہ بینائی پگھل جائے
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
نظم

بہت دنوں بعد

بہت دنوں بعد
تیرے خط کے اداس لفظوں نے
تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو
مری رگوں میں انڈیل دی ہے
مکمل پڑھیں
32 12 Sep 2026
نظم

وہ تو یوں تھا کہ ہم

وہ تو یوں تھا کہ ہم
اپنی اپنی ضرورت کی خاطر
اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا
اپنے اپنے ارادوں کی تکمیل میں
مکمل پڑھیں
26 12 Sep 2026
نظم

چلو چھوڑو

چلو چھوڑو
محبت جھوٹ ہے
عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
نظم

پاگل آنکھوں والی لڑکی

پاگل آنکھوں والی لڑکی
اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو
تھک جاؤ گی
کانچ سے نازک خواب تمہارے
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
نظم

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دلوں میں داغ چمکتے تھے
جب پلکیں شہر کے رستوں میں
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
نظم

کسی کے دور جانے سے

کسی کے دور جانے سے
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے مان جانے سے
کسی کے روٹھ جانے سے
مکمل پڑھیں
24 12 Sep 2026
غزل

فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر

فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
پتھروں سے بشر تراشا کر
کب سے اپنی تلاش میں گم ہوں
اے خدا مجھ کو مجھ پہ افشا کر
مکمل پڑھیں
31 12 Sep 2026
غزل

جذبے کو زبان دے رہا ہوں

جذبے کو زبان دے رہا ہوں
پتھر کو بھی جان دے رہا ہوں
اک یاد کو دفن کر کے دل میں
دشمن کو امان دے رہا ہوں
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
غزل

کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر

کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
اک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر
تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
مجھ کو زنجیریں ملی ہیں جرأت اظہار پر
مکمل پڑھیں
29 12 Sep 2026
غزل

فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا

فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
مری زباں کو زر التماس کیا دے گا
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026
غزل

خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا

خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا
تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو
کہ ماہتاب سدا شب کے پیرہن میں کھلا
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026
غزل

غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو

غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو
کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمنا
خوشبو کی طرح پھیل چمن تا بہ چمن تو
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
غزل

لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی

لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی
میں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھی
اسے لبھا نہ سکا میرے بعد کا موسم
بہت اداس لگا خال و خد سنوار کے بھی
مکمل پڑھیں
34 12 Sep 2026
غزل

عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر

عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
کہ سانپ زہر چھڑکتا رہا چنبیلی پر
مکمل پڑھیں
29 12 Sep 2026
غزل

ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا

ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
بدن سے روح کا اس درجہ اشتراک ہوا
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026
غزل

پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا

پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
مکمل پڑھیں
26 12 Sep 2026
غزل

زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے

زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے
بعض اوقات مری روح غضب کرتی ہے
جو تری زلف سے اترے ہوں مرے آنگن میں
چاندنی ایسے اندھیروں کا ادب کرتی ہے
مکمل پڑھیں
24 12 Sep 2026
غزل

سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں

سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں
اس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میں
وصل کے شہر کی روشنی ایک تو
ہجر کے دشت میں کارواں ایک میں
مکمل پڑھیں
29 12 Sep 2026
غزل

بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا

بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
مکمل پڑھیں
26 12 Sep 2026
غزل

جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا

جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا
وہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا
اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کی
بچوں کو اپنی بھیک کے پیالے تو دے گیا
مکمل پڑھیں
26 12 Sep 2026
غزل

یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے

یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
مکمل پڑھیں
23 12 Sep 2026
غزل

کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا

کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا
بھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلا
بچھڑ کر تجھ سے میں شب بھر نہ سویا کون رویا
بجز میرے یہ دکھ بھی کس نے جھیلا میں اکیلا
مکمل پڑھیں
31 12 Sep 2026
غزل

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا
مکمل پڑھیں
26 12 Sep 2026
غزل

جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا

جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا
مری سوچ خزاں کی شاخ بنی ترا چہرہ اور گلاب ہوا
برفیلی رت کی تیز ہوا کیوں جھیل میں کنکر پھینک گئی
اک آنکھ کی نیند حرام ہوئی اک چاند کا عکس خراب ہوا
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
غزل

خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی

خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی
ترے لیے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہوگا
مرے لیے تجھے زلفیں سنوارنا ہوں گی
مکمل پڑھیں
34 12 Sep 2026
غزل

سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر

سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
کچھ پھول اک فقیر کی جھولی میں ڈال کر
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026
غزل

فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا

فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا
دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر ترا
ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا
مکمل پڑھیں
24 12 Sep 2026
غزل

میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی

میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
مجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھی
اسے جکڑا ہوا تھا زندگی نے
سرہانے موت بیٹھی رو رہی تھی
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
غزل

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ
اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ
مکمل پڑھیں
31 12 Sep 2026
غزل

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے
سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری
میرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
غزل

میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا

میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
کل مل گیا تو وہ بھی دریدہ لباس تھا
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
غزل

بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا

بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
ہوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرنا
کھلی زمینوں میں جب بھی سرسوں کے پھول مہکیں
تم ایسی رت میں سدا مرا انتظار کرنا
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
غزل

ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے

ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے
تو دیر تک مرے گھر کا سکوت بولتا ہے
ہم ایسے خاک نشیں کیا لبھا سکیں گے اسے
وہ اپنا عکس بھی میزان زر میں تولتا ہے
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026
غزل

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا
برگ گل کو خاک شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
غزل

نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں

نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں
جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغ
میں شہر میں بھی وہی آبلے تلاش کروں
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026
غزل

اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام

اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام
یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری
کہ شاخ شاخ اترتی ہے تیرے ہجر کی شام
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
غزل

ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا

ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
ہم نے سورج بھی ترے شہر میں آ کر دیکھا
مکمل پڑھیں
26 12 Sep 2026
غزل

عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
ملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
غزل

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
مکمل پڑھیں
29 12 Sep 2026
غزل

ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں

ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں
طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں
یہ دشت شب میں ستاروں کی ہم سفر آنکھیں
مکمل پڑھیں
31 12 Sep 2026
غزل

ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا

ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا
نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس
زرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026
غزل

زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں

زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے
میں سارا دن کہاں پھرتا رہا ہوں
مکمل پڑھیں
34 12 Sep 2026
غزل

نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر

نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
ابھی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا
جو تری تلاش میں گم ہوئے کبھی ان دنوں کا حساب کر
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
غزل

اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا

اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے
خامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
غزل

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات
خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
غزل

ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے

ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے
مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے
تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیا
ہوا کی راہ میں اک ایسا گھر بھی آتا ہے
مکمل پڑھیں
23 12 Sep 2026
غزل

اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں

اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں
وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے
میں قطرہ قطرہ اسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں
مکمل پڑھیں
31 12 Sep 2026
غزل

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا
سوچ رہا ہوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ہوا
مکمل پڑھیں
28 12 Sep 2026
غزل

اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا

اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا
اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک
زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا
مکمل پڑھیں
26 12 Sep 2026
غزل

میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا

میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا
مکمل پڑھیں
34 12 Sep 2026
غزل

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
غزل

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی
مکمل پڑھیں
29 12 Sep 2026
غزل

یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی

یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی
مکمل پڑھیں
27 12 Sep 2026
غزل

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
مکمل پڑھیں
25 12 Sep 2026
غزل

اتنی مدت بعد ملے ہو

اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
مکمل پڑھیں
36 12 Sep 2026