محسن نقوی
Mohsin Naqvi
پیدائش: 05 May 1947
وفات: 15 Jan 1996
محسن نقوی اردو کے معروف پاکستانی شاعر تھے جو اپنی رومانوی، جذباتی اور درد بھری شاعری کے باعث خاص شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید غلام عباس نقوی تھا اور وہ 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری میں محبت، جدائی، تنہائی، انسانی جذبات، وفا اور معاشرتی احساسات نمایاں موضوعات ہیں۔ ان کا اندازِ بیان سادہ، پُراثر اور جذبات سے بھرپور تھا، جس نے انہیں نوجوان نسل میں بھی بے حد مقبول بنایا۔ محسن نقوی نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں نمایاں کام کیا اور ان کا کلام اردو ادب میں ایک منفرد جذباتی رنگ رکھتا ہے۔ ان کے معروف شعری مجموعوں میں برگِ صحرا، بندِ قبا، عذابِ دید، خیمۂ جاں اور ریزۂ حرف شامل ہیں۔ وہ مرثیہ نگاری کے حوالے سے بھی نمایاں مقام رکھتے تھے اور واقعۂ کربلا سے متعلق ان کا کلام خاص طور پر معروف ہے۔ محسن نقوی 15 جنوری 1996 کو لاہور میں ایک حملے کے نتیجے میں وفات پا گئے۔ ان کی شاعری آج بھی اردو ادب اور مشاعروں میں خاص مقبولیت رکھتی ہے۔
112
کل شاعری
40
شعر
49
غزل
23
نظم
شعر
انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل
انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل
وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے
وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے
شعر
کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
شعر
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
شعر
جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک
جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک
وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا
وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا
شعر
شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر
جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر
شعر
چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی
محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی
شعر
جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا
ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا
شعر
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
شعر
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
شعر
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
شعر
بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
شعر
پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے
پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے
شعر
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
شعر
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
شعر
وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی
ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی
شعر
یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی
یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی
نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی
نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی
شعر
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
شعر
ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ
سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ
شعر
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
شعر
موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
شعر
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
شعر
جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا
وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا
شعر
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
شعر
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
شعر
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
شعر
ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا
چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا
شعر
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
شعر
کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں
کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں
شعر
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
شعر
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
شعر
وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے
گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے
شعر
کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں
شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں
شعر
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
شعر
وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے
کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے
شعر
تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے
یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے
شعر
کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو
شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو
شعر
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
شعر
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
شعر
کون سی بات ہے تم میں ایسی
کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
شعر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
نظم
بہت دنوں سے
بہت دنوں سے
وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے
بہت دنوں سے
مکمل پڑھیں
وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے
بہت دنوں سے
نظم
فراق صبحوں کی بجھتی کرنیں
فراق صبحوں کی بجھتی کرنیں
وصال شاموں کی جلتی شمعیں
زوال زرداب خال و خد سے اٹے زمانے
یہ ہانپتی دھوپ کانپتی چاندنی سے چہرے
مکمل پڑھیں
وصال شاموں کی جلتی شمعیں
زوال زرداب خال و خد سے اٹے زمانے
یہ ہانپتی دھوپ کانپتی چاندنی سے چہرے
نظم
مری اداسی کا زرد موسم
مری اداسی کا زرد موسم
اگر کسی دن
مری بجھی آنکھ کے کنارے
بھگو بھگو کر
مکمل پڑھیں
اگر کسی دن
مری بجھی آنکھ کے کنارے
بھگو بھگو کر
نظم
مری گلی کے غلیظ بچو
مری گلی کے غلیظ بچو
تم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھو
تمہاری آنکھیں
اداسیوں سے بھری ہوئی ہیں
مکمل پڑھیں
تم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھو
تمہاری آنکھیں
اداسیوں سے بھری ہوئی ہیں
نظم
اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت کی ساری روشنیاں
آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
اس سمت کی اجلی مٹی میں
مکمل پڑھیں
اس سمت کی ساری روشنیاں
آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
اس سمت کی اجلی مٹی میں
نظم
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
جو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر
مکمل پڑھیں
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
جو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر
نظم
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
سایۂ شام غریباں کی طرح
شورش دیدۂ گریاں کی طرح
موسم کنج بیاباں کی طرح
مکمل پڑھیں
سایۂ شام غریباں کی طرح
شورش دیدۂ گریاں کی طرح
موسم کنج بیاباں کی طرح
نظم
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں
موسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواں
جس کے ہم راہ کسی زہرہ جبیں کی ڈولی
مکمل پڑھیں
کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں
موسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواں
جس کے ہم راہ کسی زہرہ جبیں کی ڈولی
نظم
ہوا
ہوا
صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سے
خواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہنا
کہ ہم جاگتے ہیں
مکمل پڑھیں
صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سے
خواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہنا
کہ ہم جاگتے ہیں
نظم
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
قبر کی اجلی پیشانی پر
مکمل پڑھیں
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
قبر کی اجلی پیشانی پر
نظم
زندگی لفظ ہے
زندگی لفظ ہے
موت بھی لفظ ہے
زندگی کی تراشی ہوئی اولیں صوت سے سرحد موت تک لفظ ہی لفظ ہیں
سانس بھی لفظ ہے
مکمل پڑھیں
موت بھی لفظ ہے
زندگی کی تراشی ہوئی اولیں صوت سے سرحد موت تک لفظ ہی لفظ ہیں
سانس بھی لفظ ہے
نظم
مرے لیے کون سوچتا ہے
مرے لیے کون سوچتا ہے
جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے
جدا جدا سب کی صورتیں ہیں
سبھی کو اپنی انا کے اندھے کنویں کی تہ میں پڑے ہوئے
مکمل پڑھیں
جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے
جدا جدا سب کی صورتیں ہیں
سبھی کو اپنی انا کے اندھے کنویں کی تہ میں پڑے ہوئے
نظم
تمہیں کیا
تمہیں کیا
زندگی جیسی بھی ہے
تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں
تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میں
مکمل پڑھیں
زندگی جیسی بھی ہے
تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں
تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میں
نظم
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور
یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار
یہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیق
یہ آئینے سی جبیں سجدہ گاہ لیل و نہار
مکمل پڑھیں
یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار
یہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیق
یہ آئینے سی جبیں سجدہ گاہ لیل و نہار
نظم
کئی سال گزرے
کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
دل و جان میں سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے
مکمل پڑھیں
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
دل و جان میں سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے
نظم
تمہیں کس نے کہا تھا
تمہیں کس نے کہا تھا
دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
اور اتنی دیر تک دیکھو
کہ بینائی پگھل جائے
مکمل پڑھیں
دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
اور اتنی دیر تک دیکھو
کہ بینائی پگھل جائے
نظم
بہت دنوں بعد
بہت دنوں بعد
تیرے خط کے اداس لفظوں نے
تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو
مری رگوں میں انڈیل دی ہے
مکمل پڑھیں
تیرے خط کے اداس لفظوں نے
تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو
مری رگوں میں انڈیل دی ہے
نظم
وہ تو یوں تھا کہ ہم
وہ تو یوں تھا کہ ہم
اپنی اپنی ضرورت کی خاطر
اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا
اپنے اپنے ارادوں کی تکمیل میں
مکمل پڑھیں
اپنی اپنی ضرورت کی خاطر
اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا
اپنے اپنے ارادوں کی تکمیل میں
نظم
چلو چھوڑو
چلو چھوڑو
محبت جھوٹ ہے
عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
مکمل پڑھیں
محبت جھوٹ ہے
عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
نظم
پاگل آنکھوں والی لڑکی
پاگل آنکھوں والی لڑکی
اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو
تھک جاؤ گی
کانچ سے نازک خواب تمہارے
مکمل پڑھیں
اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو
تھک جاؤ گی
کانچ سے نازک خواب تمہارے
نظم
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دلوں میں داغ چمکتے تھے
جب پلکیں شہر کے رستوں میں
مکمل پڑھیں
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دلوں میں داغ چمکتے تھے
جب پلکیں شہر کے رستوں میں
نظم
کسی کے دور جانے سے
کسی کے دور جانے سے
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے مان جانے سے
کسی کے روٹھ جانے سے
مکمل پڑھیں
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے مان جانے سے
کسی کے روٹھ جانے سے
غزل
فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
پتھروں سے بشر تراشا کر
کب سے اپنی تلاش میں گم ہوں
اے خدا مجھ کو مجھ پہ افشا کر
مکمل پڑھیں
پتھروں سے بشر تراشا کر
کب سے اپنی تلاش میں گم ہوں
اے خدا مجھ کو مجھ پہ افشا کر
غزل
جذبے کو زبان دے رہا ہوں
جذبے کو زبان دے رہا ہوں
پتھر کو بھی جان دے رہا ہوں
اک یاد کو دفن کر کے دل میں
دشمن کو امان دے رہا ہوں
مکمل پڑھیں
پتھر کو بھی جان دے رہا ہوں
اک یاد کو دفن کر کے دل میں
دشمن کو امان دے رہا ہوں
غزل
کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
اک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر
تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
مجھ کو زنجیریں ملی ہیں جرأت اظہار پر
مکمل پڑھیں
اک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر
تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
مجھ کو زنجیریں ملی ہیں جرأت اظہار پر
غزل
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
مری زباں کو زر التماس کیا دے گا
مکمل پڑھیں
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
مری زباں کو زر التماس کیا دے گا
غزل
خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا
تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو
کہ ماہتاب سدا شب کے پیرہن میں کھلا
مکمل پڑھیں
مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا
تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو
کہ ماہتاب سدا شب کے پیرہن میں کھلا
غزل
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو
کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمنا
خوشبو کی طرح پھیل چمن تا بہ چمن تو
مکمل پڑھیں
ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو
کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمنا
خوشبو کی طرح پھیل چمن تا بہ چمن تو
غزل
لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی
لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی
میں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھی
اسے لبھا نہ سکا میرے بعد کا موسم
بہت اداس لگا خال و خد سنوار کے بھی
مکمل پڑھیں
میں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھی
اسے لبھا نہ سکا میرے بعد کا موسم
بہت اداس لگا خال و خد سنوار کے بھی
غزل
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
کہ سانپ زہر چھڑکتا رہا چنبیلی پر
مکمل پڑھیں
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
کہ سانپ زہر چھڑکتا رہا چنبیلی پر
غزل
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
بدن سے روح کا اس درجہ اشتراک ہوا
مکمل پڑھیں
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
بدن سے روح کا اس درجہ اشتراک ہوا
غزل
پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
مکمل پڑھیں
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
غزل
زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے
زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے
بعض اوقات مری روح غضب کرتی ہے
جو تری زلف سے اترے ہوں مرے آنگن میں
چاندنی ایسے اندھیروں کا ادب کرتی ہے
مکمل پڑھیں
بعض اوقات مری روح غضب کرتی ہے
جو تری زلف سے اترے ہوں مرے آنگن میں
چاندنی ایسے اندھیروں کا ادب کرتی ہے
غزل
سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں
سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں
اس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میں
وصل کے شہر کی روشنی ایک تو
ہجر کے دشت میں کارواں ایک میں
مکمل پڑھیں
اس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میں
وصل کے شہر کی روشنی ایک تو
ہجر کے دشت میں کارواں ایک میں
غزل
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
مکمل پڑھیں
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
غزل
جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا
جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا
وہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا
اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کی
بچوں کو اپنی بھیک کے پیالے تو دے گیا
مکمل پڑھیں
وہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا
اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کی
بچوں کو اپنی بھیک کے پیالے تو دے گیا
غزل
یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
مکمل پڑھیں
ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
غزل
کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا
کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا
بھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلا
بچھڑ کر تجھ سے میں شب بھر نہ سویا کون رویا
بجز میرے یہ دکھ بھی کس نے جھیلا میں اکیلا
مکمل پڑھیں
بھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلا
بچھڑ کر تجھ سے میں شب بھر نہ سویا کون رویا
بجز میرے یہ دکھ بھی کس نے جھیلا میں اکیلا
غزل
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا
مکمل پڑھیں
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا
غزل
جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا
جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا
مری سوچ خزاں کی شاخ بنی ترا چہرہ اور گلاب ہوا
برفیلی رت کی تیز ہوا کیوں جھیل میں کنکر پھینک گئی
اک آنکھ کی نیند حرام ہوئی اک چاند کا عکس خراب ہوا
مکمل پڑھیں
مری سوچ خزاں کی شاخ بنی ترا چہرہ اور گلاب ہوا
برفیلی رت کی تیز ہوا کیوں جھیل میں کنکر پھینک گئی
اک آنکھ کی نیند حرام ہوئی اک چاند کا عکس خراب ہوا
غزل
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی
ترے لیے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہوگا
مرے لیے تجھے زلفیں سنوارنا ہوں گی
مکمل پڑھیں
ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی
ترے لیے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہوگا
مرے لیے تجھے زلفیں سنوارنا ہوں گی
غزل
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
کچھ پھول اک فقیر کی جھولی میں ڈال کر
مکمل پڑھیں
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
کچھ پھول اک فقیر کی جھولی میں ڈال کر
غزل
فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا
دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر ترا
ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا
مکمل پڑھیں
بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا
دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر ترا
ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا
غزل
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
مجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھی
اسے جکڑا ہوا تھا زندگی نے
سرہانے موت بیٹھی رو رہی تھی
مکمل پڑھیں
مجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھی
اسے جکڑا ہوا تھا زندگی نے
سرہانے موت بیٹھی رو رہی تھی
غزل
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ
اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ
مکمل پڑھیں
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ
اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ
غزل
وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے
سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری
میرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے
مکمل پڑھیں
وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے
سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری
میرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے
غزل
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
کل مل گیا تو وہ بھی دریدہ لباس تھا
مکمل پڑھیں
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
کل مل گیا تو وہ بھی دریدہ لباس تھا
غزل
بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
ہوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرنا
کھلی زمینوں میں جب بھی سرسوں کے پھول مہکیں
تم ایسی رت میں سدا مرا انتظار کرنا
مکمل پڑھیں
ہوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرنا
کھلی زمینوں میں جب بھی سرسوں کے پھول مہکیں
تم ایسی رت میں سدا مرا انتظار کرنا
غزل
ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے
ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے
تو دیر تک مرے گھر کا سکوت بولتا ہے
ہم ایسے خاک نشیں کیا لبھا سکیں گے اسے
وہ اپنا عکس بھی میزان زر میں تولتا ہے
مکمل پڑھیں
تو دیر تک مرے گھر کا سکوت بولتا ہے
ہم ایسے خاک نشیں کیا لبھا سکیں گے اسے
وہ اپنا عکس بھی میزان زر میں تولتا ہے
غزل
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا
برگ گل کو خاک شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا
مکمل پڑھیں
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا
برگ گل کو خاک شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا
غزل
نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں
جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغ
میں شہر میں بھی وہی آبلے تلاش کروں
مکمل پڑھیں
تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں
جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغ
میں شہر میں بھی وہی آبلے تلاش کروں
غزل
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام
یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری
کہ شاخ شاخ اترتی ہے تیرے ہجر کی شام
مکمل پڑھیں
نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام
یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری
کہ شاخ شاخ اترتی ہے تیرے ہجر کی شام
غزل
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
ہم نے سورج بھی ترے شہر میں آ کر دیکھا
مکمل پڑھیں
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
ہم نے سورج بھی ترے شہر میں آ کر دیکھا
غزل
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
ملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے
مکمل پڑھیں
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
ملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے
غزل
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
مکمل پڑھیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
غزل
ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں
طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں
یہ دشت شب میں ستاروں کی ہم سفر آنکھیں
مکمل پڑھیں
تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں
طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں
یہ دشت شب میں ستاروں کی ہم سفر آنکھیں
غزل
ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا
نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس
زرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا
مکمل پڑھیں
وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا
نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس
زرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا
غزل
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے
میں سارا دن کہاں پھرتا رہا ہوں
مکمل پڑھیں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے
میں سارا دن کہاں پھرتا رہا ہوں
غزل
نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر
نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
ابھی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا
جو تری تلاش میں گم ہوئے کبھی ان دنوں کا حساب کر
مکمل پڑھیں
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
ابھی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا
جو تری تلاش میں گم ہوئے کبھی ان دنوں کا حساب کر
غزل
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے
خامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا
مکمل پڑھیں
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے
خامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا
غزل
آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات
خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو
مکمل پڑھیں
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات
خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو
غزل
ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے
ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے
مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے
تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیا
ہوا کی راہ میں اک ایسا گھر بھی آتا ہے
مکمل پڑھیں
مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے
تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیا
ہوا کی راہ میں اک ایسا گھر بھی آتا ہے
غزل
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں
وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے
میں قطرہ قطرہ اسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں
مکمل پڑھیں
مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں
وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے
میں قطرہ قطرہ اسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں
غزل
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا
سوچ رہا ہوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ہوا
مکمل پڑھیں
اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا
سوچ رہا ہوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ہوا
غزل
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا
اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک
زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا
مکمل پڑھیں
ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا
اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک
زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا
غزل
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا
مکمل پڑھیں
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا
غزل
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں
مکمل پڑھیں
صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں
غزل
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی
مکمل پڑھیں
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی
غزل
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی
مکمل پڑھیں
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی
غزل
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
مکمل پڑھیں
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
غزل
اتنی مدت بعد ملے ہو
اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
مکمل پڑھیں
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو