بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
ہوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرنا
کھلی زمینوں میں جب بھی سرسوں کے پھول مہکیں
تم ایسی رت میں سدا مرا انتظار کرنا
جو لوگ چاہیں تو پھر تمہیں یاد بھی نہ آئیں
کبھی کبھی تم مجھے بھی ان میں شمار کرنا
کسی کو الزام بے وفائی کبھی نہ دینا
مری طرح اپنے آپ کو سوگوار کرنا
تمام وعدے کہاں تلک یاد رکھ سکو گے
جو بھول جائیں وہ عہد بھی استوار کرنا
یہ کس کی آنکھوں نے بادلوں کو سکھا دیا ہے
کہ سینۂ سنگ سے رواں آبشار کرنا
میں زندگی سے نہ کھل سکا اس لیے بھی محسنؔ
کہ بہتے پانی پہ کب تلک اعتبار کرنا
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں
وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے
غزل
مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں
وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے
فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا
دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر ترا
شعر
بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا
دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر ترا
انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل
انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل
وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے
نظم
وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
غزل
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
غزل
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات