Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی

وصی شاہ
29 Views Sep 12, 2026 0 min read
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی مانگے تو اگر جان بھی ہنس کے تجھے دے دیں تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی آئے کوئی آ کر یہ ترے درد سنبھالے ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی معلوم ہمیں بھی ہیں بہت سے ترے قصے پر بات تری ہم سے اچھالی نہیں جاتی ہم راہ ترے پھول کھلاتی تھی جو دل میں اب شام وہی درد سے خالی نہیں جاتی ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی
Copied!