Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے

وصی شاہ
31 Views Sep 12, 2026 0 min read
تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے صفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گے کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آؤں گا میری خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح تم اگر خود سے نہ بولو گے تو یاد آؤں گا آج تو محفل یاراں پہ ہو مغرور بہت جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا
Copied!