Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے

وصی شاہ
27 Views Sep 13, 2026 0 min read
کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے یہ جو تم بھول جایا کرتے تھے کس کا اب ہاتھ رکھ کے سینے پر دل کی دھڑکن سنایا کرتے تھے ہم جہاں چائے پینے جاتے تھے کیا وہاں اب بھی آیا کرتے تھے کون ہے اب کہ جس کے چہرے پر اپنی پلکوں کا سایہ کرتے تھے کیوں مرے دل میں رکھ نہیں دیتے کس لیے غم اٹھایا کرتے تھے فون پر گیت جو سناتے تھے اب وہ کس کو سنایا کرتے تھے آخری میں اس کو لکھا ہے تم مجھے یاد آیا کرتے تھے کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے یہ جو تم بھول جایا کرتے تھے
Copied!