Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے

وصی شاہ
27 Views Sep 13, 2026 0 min read
بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے رفتگاں دل میں بسا کرتے ہیں کیسے کیسے جان لے کر بھی اگر خوش نہیں ہونے والا کوئی بتلائے وہ پھر مانے گا ویسے کیسے ہنستے ہنستے وہ جدائی کو بھی سہہ جائے گا زندہ رہ پائیں گے لیکن مرے جیسے کیسے وہ تو انمول ہے نایاب ہے اکلوتا ہے اس کی تشبیہ کریں ہم کسی شے سے کیسے یہ مرے یار کی آنکھوں میں رہا کرتی تھی پوچھئے کچھ نہ ہوئی دوستی مے سے کیسے زندگی یہ تری رفتار عجب طرز کی ہے چلنا چاہیں تو چلیں ہم تری لے سے کیسے زندگی سے تجھے بے دخل تو کر دیں جاناں پر تو نکلے بھی تو نکلے رگ و پے سے کیسے کس طرح کوئی بھلا دے تجھے دیکھو تو وصیؔ مشورے ہم کو ملا کرتے ہیں کیسے کیسے
Copied!