Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں

وصی شاہ
29 Views Sep 13, 2026 0 min read
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں تم مری آنکھ کے سمندر میں تم مری روح کے اجالوں میں پھول ہی پھول کھل اٹھے مجھ میں کون آیا مرے خیالوں میں میں نے جی بھر کے تجھ کو دیکھ لیا تجھ کو الجھا کے کچھ سوالوں میں میری خوشیوں کی کائنات بھی تو تو ہی دکھ درد کے حوالوں میں جب ترا دوستوں میں ذکر آئے ٹیس اٹھتی ہے دل کے چھالوں میں تم سے آباد ہے یہ تنہائی تم ہی روشن ہو گھر کے جالوں میں سانولی شام کی طرح ہے وہ وہ نہ گوروں میں ہے نہ کالوں میں کیا اسے یاد آ رہا ہوں وصیؔ رنگ ابھرے ہیں اس کے گالوں میں
Copied!