Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں

وصی شاہ
28 Views Sep 13, 2026 0 min read
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں جو اس دیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں تمہارے ہجر کی صدیاں تمہارے وصل کے دن میں اس شمار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں رچا ہوا ہے ترا عشق میری پوروں میں میں اس خمار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں یہ میرا جسم کہ ماتم سرائے حسرت ہے میں اس مزار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں یہ مجھ میں کون مرے رات دن سنبھالتا ہے اس اختیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں تمہارے جسم کی خوشبو نے کر دیا مسحور اس آبشار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں یہ بے قراری مری روح کا اجالا ہے میں اس قرار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
Copied!