Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو

وصی شاہ
34 Views Sep 12, 2026 0 min read
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو اس کے سائے میں مرے خواب دہک اٹھیں گے میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر اس قدر برسو مری روح میں جل تھل کر دو جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہے اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے جل تھل کر دو تم چھپا لو مرا دل اوٹ میں اپنے دل کی اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چراؤ مجھ سے اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حل کر دو اپنے غم سے کہو ہر وقت مرے ساتھ رہے ایک احسان کرو اس کو مسلسل کر دو مجھ پہ چھا جاؤ کسی آگ کی صورت جاناں اور مری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کر دو
Copied!