Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے

راکب مختار
30 Views Sep 13, 2026 0 min read
حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست ہاتھ چھڑوا کے بھلا تجھ سے کدھر جانا ہے اس کی چھاؤں میں بھی تھک کر نہیں بیٹھا جاتا تو نے جس پیڑ کو پھل دار شجر جانا ہے ہوئے خدشات کہ پہچان نہیں پایا تجھے میں سمجھتا تھا کہ تو نے بھی بچھڑ جانا ہے لڑکھڑاتا ہوں تو وہ رو کے لپٹ جاتا ہے میں نے گرنا ہے تو اس شخص نے مر جانا ہے خشک مشکیزہ لیے خالی پلٹنا ہے اسے اور دریاؤں کا شیرازہ بکھر جانا ہے
Copied!