Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے

وصی شاہ
34 Views Sep 12, 2026 0 min read
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے تو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ دعا وہ کرتے کہ ہم آسماں ہلا دیتے ہمیں یہ زعم رہا اب کے وہ پکاریں گے انہیں یہ ضد تھی کہ ہر بار ہم صدا دیتے وہ تیرا غم تھا کہ تاثیر میرے لہجے کی کہ جس کو حال سناتے اسے رلا دیتے تمہیں بھلانا ہی اول تو دسترس میں نہیں جو اختیار بھی ہوتا تو کیا بھلا دیتے ہم اپنے بچوں سے کیسے کہیں کہ یہ گڑیا ہمارے بس میں جو ہوتی تو ہم دلا دیتے تمہاری یاد نے کوئی جواب ہی نہ دیا مرے خیال کے آنسو رہے صدا دیتے سماعتوں کو میں تا عمر کوستا سیدؔ وہ کچھ نہ کہتے مگر ہونٹ تو ہلا دیتے
Copied!