Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو

وصی شاہ
28 Views Sep 12, 2026 0 min read
گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو انگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں اپنے گھر کے کسی کونے سے لگا دے مجھ کو یاد کر کے مجھے تکلیف ہی ہوتی ہوگی ایک قصہ ہوں پرانا سا بھلا دے مجھ کو ڈوبتے ڈوبتے آواز تری سن جاؤں آخری بار تو ساحل سے صدا دے مجھ کو میں ترے ہجر میں چپ چاپ نہ مر جاؤں کہیں میں ہوں سکتے میں کبھی آ کے رلا دے مجھ کو دیکھ میں ہو گیا بدنام کتابوں کی طرح میری تشہیر نہ کر اب تو جلا دے مجھ کو روٹھنا تیرا مری جان لیے جاتا ہے ایسے ناراض نہ ہو ہنس کے دکھا دے مجھ کو اور کچھ بھی نہیں مانگا مرے مالک تجھ سے اس کی گلیوں میں پڑی خاک بنا دے مجھ کو لوگ کہتے ہیں کہ یہ عشق نگل جاتا ہے میں بھی اس عشق میں آیا ہوں دعا دے مجھ کو یہی اوقات ہے میری ترے جیون میں کہ میں کوئی کمزور سا لمحہ ہوں بھلا دے مجھ کو
Copied!