Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی

وصی شاہ
28 Views Sep 13, 2026 0 min read
گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی مرے خطوط کے ٹکڑے تلاش کرتی تھی کہاں گئی وہ کنواری اداس بی آپا جو گاؤں گاؤں میں رشتے تلاش کرتی تھی بھلائے کون اذیت پسندیاں اس کی خوشی کے ڈھیر میں صدمے تلاش کرتی تھی عجیب ہجر پرستی تھی اس کی فطرت میں شجر کے ٹوٹتے پتے تلاش کرتی تھی قیام کرتی تھی وہ مجھ میں صوفیوں کی طرح اداس روح کے گوشے تلاش کرتی تھی تمام رات کو پردے ہٹا کے چاند کے ساتھ جو کھو گئے تھے وہ لمحے تلاش کرتی تھی کچھ اس لیے بھی مرے گھر سے اس کو تھی وحشت یہاں بھی اپنے ہی پیارے تلاش کرتی تھی گھما پھرا کے جدائی کی بات کرتی تھی ہمیشہ ہجر کے حربے تلاش کرتی تھی تمام رات وہ زخمہ کے اپنے پوروں کو مرے وجود کے ریزے تلاش کرتی تھی دعائیں کرتی تھی اجڑے ہوئے مزاروں پر بڑے عجیب سہارے تلاش کرتی تھی مجھے تو آج بتایا ہے بادلوں نے وصیؔ وہ لوٹ آنے کے رستے تلاش کرتی تھی
Copied!